About Urdu

Friday, November 8, 2002

Ashfaq Ahmad

زندگی
پيدائش
1925
انتقال
:ستمبر
2004 ء
اشفاق احمداردو افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار ۔ نثر نگار ۔لاہور ميں پيدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ايم اے کيا، اڻلی کی روم يونيورسڻی اور گرے نوبلے يونيورسڻی فرانس سے اطالوی اور فرانسيسی زبان ميں ڈپلومے کيے، اور نيويارک يونيورسڻی سے براڈکاسڻنگ کی خصوصی تربيت حاصل کی۔ انہوں نے ديال سنگه کالج لاہور ميں دو سال تک اردو کے ليکچرر کے طور پر کام کيا اور بعد ميں روم يونيور ڻ سی ميں اردو کے استاد مقرر ہوگۓ۔وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کيا جو اردو کے آفسٹ طباعت ميں چهپنے والے ابتدائی رسالوں ميں شمار کيا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزه ليل و نہار کی ادارت بهی کی۔
وه انيس سو سڑسڻه ميں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائري ڻ کر مقرر ہوئے جو بعد ميں اردو سائنس بورڈ ميں تبديل ہوگيا۔ وه انيس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وه صدر جنرل ضياءالحق کےدور ميں وفاقی وزارت تعليم کے مشير بهی مقرر کيے گۓ۔اشفاق احمد ان نامور اديبوں ميں شامل ہيں جو قيام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نماياں ہوئے اور انيس سو ترپن ميں ان کا افسانہ گڈريا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو ميں پنجابی الفاظ کا تخليقی طور پر استعمال کيا اور ايک خوبصورت شگفتہ نثر ايجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجهی جاتی ہے۔ اردو ادب ميں کہانی لکهنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تها وه کم لوگوں کے حصہ ميں آيا۔
ايک محبت سو افسانے اور اجلے پهول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہيں۔ بعد ميں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کهيل تماشا (ناول) ، ايک محبت سو ڈرامے (ڈرامے) اور توتا کہانی (ڈرامے) ان کی نماياں تصانيف ہيں۔ انيس سو پينسڻه سے انہوں نے ريڈيو پاکستان لاہور پر ايک ہفتہ وار فيچر پروگرام تلقين شاه کے نام سے کرنا شروع کيا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تيس سال سے زياده چلتا رہا۔ ساڻه کی دہائی ميں اشفاق احمد نے دهوپ اور سائے نام سے ايک نئی طرح کی
فيچر فلم ب ا نئی جس کے گيت مشہور شاعر منير نيازی نے لکهے اور طفيل نيازی نے اس کی موسيقی ترتيب دی تهی اور اداکار قوی خان اس ميں پہلی مرتبہ ہيرو کے طور پر آئے تهے۔ اس فلم کا مشہور گانا تها اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دريا اور بدريا چهائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامياب ہوگئی۔ ستر کی دہائی کے شروع ميں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ايک محبت سو افسانے کے نام سے ايک ڈرامہ سيريز لکهی اور اسی کی دہائی ميں ان کی سيريز توتا کہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا ميں وه تصوف کی طرف مائل ہوگۓ اور ان پر خاصی تنقيد کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں ميں پلاٹ سے زياده مکالمے پر زور ديتے تهے اور ان کے کردار طويل گفتگو کرتے تهے۔ کچه عرصہ سے وه پاکستان ڻيلی وژن پر زاويے کے نام سے ايک پروگرام کرتے رہے جس ميں وه اپنے مخصوص انداز ميں قصے اور کہانياں سناتے تهے۔ جگر کی رسولی کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔
 گلے ميں منکوں کی مالا ہے۔ ہاته ميں اس کے لوگوں کو سزا دينے کا تازيانہ پکڑا ہوا ہے، اور آنکهوں ميں سرخ رنگ کا سرمہ ڈالا ہے۔ بس اتنی سی بات تهی۔ ايک تهری پيس سوٹ پہنے ہوئے اعلٰی درجے کی سرخ رنگ کی ڻائی لگائی ہے۔ بيچ ميں سونے کا پن لگائے ہوئے ايک بہت اعلٰی درجے کا بابا ہوتا ہے۔ اس ميں جنس کی بهی قيد نہيں ہے۔ مرد عورت، بچہ، بوڑها، ادهيڑ نوجوان يہ سب لوگ کبهی نہ کبهی اپنے وقت ميں بابے ہوتے ہيں، اور ہو گزرتے ہيں۔ لمحاتی طور پر ايک دفعہ کچه آسانی عطا کرنے کا کام کيا۔ اور کچه مستقلاً اختيار کر ليتے ہيں اس شيوے کو۔ اور ہم ان
کا بڑا احترام کرتے ہيں۔ ميری زندگی ميں بابے آئے ہيں اور ميں حيران ہوتا تها کہ يہ لوگوں کو آسانی عطا کرنے کا فن کس خوبی سے کس سليقے سے جانتے ہيں۔

ميری يہ حسرت ہی رہی۔ ميں اس عمر کو پہنچ گيا۔ ميں اپنی طرف سے کسی کو نہ آسانی عطا کر سکا، نہ دے سکا اور مجهے ڈر لگتا ہے کہ نہ ہی آئنده کبهی اس کی توقع ہے۔

جب ہم تهرڈايئر ميں تهے تو کرپال سنگه ہمارا ساتهی تها۔ ہم اس کو کرپالاسنگه کہتے تهے۔ بيچاره ايسا ہی آدمی تها جيسے ايک پنجابی فوک گانے والا ہوتا ہے۔ لال رنگ کا لباس پہن کے بہت ڻيڑها ہو کے گايا کرتا ہے۔ ايک روز ہم لاہور کے بازار انارکلی ميں جا رہے تهے تو سڻيشنری کی دکانوں کے آگے ايک فقير تها۔ اس نے کہا بابا لله کے نام پر کچه دے تو ميں نے کوئی توجہ نہيں دی۔ پهر اس نے کرپال سنگه کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بابا سائيں کچه دے۔ تو کہنے لگا کہ بهاجی اس وقت کچه ہے نہيں، اور اس کے پاس
واقعی نہيں تها۔ تو فقير نے بجائے اس سے کچه لينے کے بهاگ کر اس کو اپنے بازوؤں ميں لے ليا اور گهٹ کے چبهی (معانقہ) ڈال لی۔ کہنے لگا، ساری دنيا کے خزانے مجه کو ديئے، سب کچه تو نے لڻا ديا۔ تيرے پاس سب کچه ہے۔ تو نے مجهے بهاجی کہہ ديا۔ ميں ترسا ہوا تها اس لفظ سے۔ مجهے آج کسی نے بها جی نہيں کہا۔ اب اس کے بعد کسی چيز کی ضرورت باقی نہيں رہی۔

ان دنوں ہم سارے ہوسڻل کے لڑکے چوری چهپے سينما ديکهنے جاتے تهے۔ تو لاہور بهاڻی کے باہر ايک تهيڻر تها اس ميں فلميں لگتی تهيں۔ ميں ارواند، غلام مصطفٰی، کرپال يہ سب۔ ہم گئے سينما ديکهنے، رات کو لوڻے تو انار کلی ميں بڑی يخ بستہ سردی تهی، يعنی وه کرسمس کے قريب کے ايام تهے سردی بہت تهی۔ سردی کے اس عالم ميں کہرا بهی چهايا ہوا تها۔ ايک دکان کے تختے پر پهڻا جو ہوتا ہے، ايک دردناک آواز آ رہی تهی ايک بڑهيا کی۔ وه رو رہی تهی اور کراه رہی تهی، اور بار بار يہ کہے جا رہی تهی کہ ارے ميری بہوجهے بهگوان سميڻے تو مر جائے نی، مجهے ڈال گئی، وه بہو اور بيڻا اس کو گهر سے نکال کے ايک دکان کے پهڻے پر چهوڑ گئے تهے۔ وه دکان تهی جگت سنگه کواترا کی جو بعد ميں بہت معروف ہوئے۔ ان کی ايک عزيزه تهی امرتا پرتيم، جو بہت اچهی شاعره بنی۔ وه خير اس کو اس دکان پر پهينک گئے تهے۔ وہاں پر وه ل ڻ یی چيخ و پکار کر رہی تهی۔ ہم سب نے کهڑے ہو کر تقرير شروع کی کہ ديکهو کتنا ظالم سماج ہے، کتنے ظالم لوگ ہيں۔ اس غريب بڑهيا بيچاری کو يہاں سردی ميں ڈال گئے۔ اس کا آخری وقت ہے۔ وہاں اروند نے بڑی تقرير کی کہ جب تک انگريز ہمارے اوپر حکمران رہے گا، اور ملک کو سوراج نہيں ملے گا ايسے غريبوں کی ايسی حالت رہے گی۔ پهر وه کہتے حکومت کو کچه کرنا چاہيے۔ پهر کہتے ہيں۔ اناته آشرم (کفالت خانے، مقيم خانے) جو ہيں وه کچه نہيں کرتے۔ ہم يہاں کيا کريں۔ تو وه کرپال سنگه وہاں سے غائب ہو گيا۔ ہم
نے کہا، پيچهے ره گيا يا پتا نہيں کہاں ره گيا ہے۔ تو ابهی ہم تقريريں کر رہے تهے۔ اس بڑهيا کے پاس کهڑے ہو کے کہ وه بايئسکل کے اوپر آيا بالکل پسينہ پسينہ سرديوں ميں، فق ہوا، سانس اوپر نيچے ليتا آگيا۔ اس کے ہوسڻل کے کمرے ميں چارپائی کے آگے ايک پرانا کمبل ہوتا تها جو اس کے والد کبهی گهوڑے پر ديا کرتے ہوں گے۔ وه ساہيوال کے بيدی تهے۔ تو وه بچها کے نا اس کے اوپر بيڻه کر پڑهتے وڑهتے تهے۔ بدبودار گهوڑے کو کمبل جسے وه اپنی چارپائی سے کهينچ کر لے آيا بايئسکل پر، اور لا کر اس نے بڑهيا کے اوپر ڈال ديا، اور وه اس کو دعائيں ديتی رہی۔ اس کو نہيں آتا تها وه طريقه کہ کس طرح تقرير کی جاتی ہے۔ فنِ تقرير سے ناواقف تها۔ بابا نور والے کہا کرتے تهے انسان کا کام ہے دوسروں کو آسانی دينا۔

Share:

0 comments:

Post a Comment

Copyright © Urdu Dosts | Powered by Blogger Design by ronangelo | Blogger Theme by NewBloggerThemes.com